اصغر خان عملدرآمد کیس: پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف انکوائری کا حکم

0
18

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں ملوث پاک فوج کے افسران کے خلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی  3 رکنی یبنچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

 دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف آئی اے تو ہاتھ کھڑے کرنا چاہتا ہے، تفتیش کیون ہو رہی ہے، کورٹ مارشل کارروائی کیوں نہیں شروع ہوئی؟

انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے، کیس میں ان کا نام سامنے آیا نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں میں کوئی ذکر ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں بانی ایم کیو ایم کا نام تھا، وہ اب پاکستان میں نہیں، متحدہ بانی اور دیگر ملزمان کی حوالگی کیلئے برطانیہ سے بات چیت جاری ہے، جس میں بہت جلد اہم پیشرفت متوقع ہے۔

عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی اور  حکم دیا کہ افسران کے خلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2012 میں 3 رکنی بینچ نے 1990ء کے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔

LEAVE A REPLY